السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الخروج من المظالم والتقرب إلى الله تعالى بالصدقة ونوافل الخير رجاء الإجابة باب: دعا کی قبولیت کی امید میں مظالم سے نکلنے (حقوق العباد ادا کرنے) اور صدقہ اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ⦗٤٨٣⦘ هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ " قَالَ: " فَيُقَالُ: انْتَظِرْ هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " انْظُرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر پیر اور جمعرات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو معاف کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا مگر اس شخص کو معاف نہیں کرتا جس کے دل میں اپنے بھائی کے متعلق کینہ ہو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے: میں ان دونوں کو مہلت دیتا ہوں کہ وہ دونوں صلح صفائی کر لیں۔“
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے، وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں“ اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔