حدیث نمبر: 6395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا زَالَ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي عَلَيْهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ". وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ مَعَ تَأْوِيلِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے کسی دوست (ولی) سے دشمنی کی، اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا، اور میرا کوئی بندہ کسی ایسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرائض فرض کیے ہیں، اور وہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ چھوتا ہے، اور اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دے دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دے دیتا ہوں۔“
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کرامتہ سے بیان کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6395
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ بخاري»