السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من مس المرأة فرجها باب: عورت کا اپنی شرمگاہ کو چھونے پر وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي كِنَانَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي أَحَدِنَا تَمَسُّ فَرْجَهَا، وَالرَّجُلُ يَمَسُّ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَتَوَضَّأُ يَا بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ " قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا لِيَسْأَلَهَا فَقَالَتْ: دَعْنِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَأَمَرَنِي بِالْوُضُوءِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا جو بنی کنانہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں ہم سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوتی ہے یا کوئی مرد اپنی شرمگاہ کو وضو کرنے کے بعد چھوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بسرہ بنت صفوان! وہ عورت وضو کرے۔“
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ان کی طرف ایک شخص کو بھیجا کہ ان سے سوال کرے، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو کہ میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کروں، آپ ﷺ کے پاس فلاں فلاں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، آپ ﷺ نے مجھ کو وضو کا حکم دیا۔