السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: استحباب الخروج بالضعفاء والصبيان والعبيد والعجائز باب: کمزوروں، بچوں، غلاموں اور بوڑھی عورتوں کو ساتھ لے کر نکلنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، بِهَمْدَانَ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ ⦗٤٨١⦘ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا نَصَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ، وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ.حافظ ثناء اللہ
مصعب بن سعد اپنے باپ (سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خیال کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے دیگر صحابہ سے افضل ہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امت کی مدد ان کے کمزور لوگوں کی دعا، نماز اور اخلاص کی وجہ سے کی ہے۔“ اس حدیث کی تخریج امام بخاری رحمہ اللہ نے محمد بن طلحہ کی حدیث سے کی ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے بیان کی۔