السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: استحباب الخروج بالضعفاء والصبيان والعبيد والعجائز باب: کمزوروں، بچوں، غلاموں اور بوڑھی عورتوں کو ساتھ لے کر نکلنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6388
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ابْغُونِيَ الضُّعَفَاءَ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
جبیر بن نفیر حضرمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”میرے لیے ضعیفوں (کمزوروں) کو تلاش کرو کہ بیشک تم رزق دیے جاتے ہو اور مدد کیے جاتے ہو اپنے کمزوروں کی وجہ سے۔“