السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: استحباب الخروج بالضعفاء والصبيان والعبيد والعجائز باب: کمزوروں، بچوں، غلاموں اور بوڑھی عورتوں کو ساتھ لے کر نکلنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6390
حَدَّثَنَا الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الشَّاشِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَهْلًا عَنِ اللهِ مَهْلًا، فَإِنَّهُ لَوْلَا شَبَابُ خُشَّعٌ، وَبَهَائِمٌ رُتَّعٌ، وَشُيُوخٌ رُكَّعٌ، وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا ". إِبْرَاهِيمُ بْنُ خُثَيْمٍ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَلَهُ شَاهِدٌ بِإِسْنَادٍ آخَرَ غَيْرِ قَوِيٍّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہر جاؤ جلدی نہ کرو۔ اللہ سے یہ یقینی بات ہے کہ اگر خشوع و خضوع کرنے والے نوجوان نہ ہوتے، اور چوپائے بلبلانے والے نہ ہوتے، اور بزرگ (بوڑھے) جھکنے والے نہ ہوتے، اور بچے چیخنے چلانے والے نہ ہوتے تو تم پر عذاب نازل کر دیا جاتا۔“ اس میں ابراہیم بن خثیم قوی نہیں۔