السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الإمام يخرج متبذلا متواضعا متضرعا باب: امام کا پرانے کپڑوں میں، عاجزی اختیار کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 6387
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ بِبَغْدَادَ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَرَسِّلًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے صلاۃ الاستسقاء کے متعلق پوچھوں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اسے کس نے روکا ہے میرے سے پوچھنے میں۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ عاجزی کرتے ہوئے، خشوع و خضوع کرتے اور گڑگڑاتے ہوئے، نرمی سے چلتے ہوئے نکلے۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید کی پڑھاتے تھے اور آپ ﷺ نے تمہارے خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا۔