السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الاستسقاء— کتاب الاستسقائ
باب: الإمام يخرج متبذلا متواضعا متضرعا باب: امام کا پرانے کپڑوں میں، عاجزی اختیار کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ الْمَدَنِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْوَلِيدَ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، بَلْ أَرْسَلَ ابْنُ أَخِيكُمْ - يَعْنِي الْوَلِيدَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، فَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدَيْنِ ".ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے ولید نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی نمازِ استسقاء کے متعلق دریافت کروں، سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ان سے آپ نے مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی «صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ» ”نمازِ استسقاء“ کے متعلق ہمیں شک میں ڈال دیا ہے، تو انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ تمہارے بھائی کے بیٹے ولید نے بھیجا ہے، تب وہ مدینہ کا امیر تھا، تو تب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ عاجزی، انکساری کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور منبر پر بیٹھ گئے، مگر تمہارے آج کے خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا بلکہ آپ ﷺ دعا کرتے رہے اور گڑگڑاتے رہے اور اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہے، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عیدین میں پڑھایا کرتے تھے۔