السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: النساء يحضرن المسجد لصلاة الخسوف باب: عورتوں کا گرہن کی نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَمَا رَكَعَ لَمْ يَكُنْ رَكَعَ شَيْئًا، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، فَأَقُولُ: أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْكِ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَغَيْرِهِ.صفیہ بنت شیبہ رحمہا اللہ، سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سورج گرہن کے وقت گھبرا گئے۔ آپ ﷺ نے اپنی زرہ کو پکڑا، یہاں تک کہ وہ آپ کی چادر کے ساتھ پائی گئی۔ آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ لمبا قیام کیا۔ آپ ﷺ کھڑے رہے پھر رکوع کیا۔ اگر کوئی انسان آپ کے رکوع کرنے کے بعد آتا تو وہ رکوع نہ کرتا، اس لیے کہ اس کے دل میں یہ بات پیدا نہ ہوتی کہ آپ ﷺ نے رکوع کیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو عمر کے اعتبار سے مجھ سے بڑی تھی اور دوسری عورت جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی، وہ کھڑی تھیں۔ میں نے کہا: میرا تجھ سے زیادہ حق بنتا ہے کہ میں زیادہ لمبا قیام کروں۔