السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: : لا يصلي جماعة عند شيء من الآيات غير الشمس والقمر باب: سورج اور چاند گرہن کے علاوہ کسی اور نشانی (آفت) کے وقت باجماعت نماز نہیں پڑھی جائے گی
وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي ذَلِكَ بِأَنَّ زَلْزَلَةً كَانَتْ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَطَبَ النَّاسَ وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ صَلَّى.اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے قولِ قدیم میں اس بات سے استدلال کیا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں زلزلہ آیا تھا، تو انہوں نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا لیکن یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ انہوں نے نماز بھی پڑھائی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَتْ: " زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ حَتَّى اصْطَفَقَتِ السُّرُرُ، وَابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي فَلَمْ يَدْرِ بِهَا، وَلَمْ يُوَافِقْ أَحَدًا يُصَلِّي، فَدَرَى بِهَا، فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ، فَقَالَ: " أَحْدَثْتُمْ، لَقَدْ عَجِلْتُمْ، قَالَتْ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: " لَئِنْ عَادَتْ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيْكُمْ ".نافع، صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں زمین پر زلزلہ آیا، یہاں تک کہ چارپائیوں نے بھی حرکت کی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز پڑھ رہے تھے، انہیں معلوم نہ ہوا۔ کوئی دوسرا اس وقت نماز نہیں پڑھ رہا تھا تو ان کو بھی معلوم ہو گیا، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم نے نیا کام کیا، تم نے جلدی کی۔ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے فرمایا: اگر وہ جاری رہتی تو میں ضرور تمہارے درمیان سے نکل جاتا۔