السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: المنفرد يصلي صلاة الخسوف إذا لم يحضره إمام استدلالا بما مضى من أمره صلى الله عليه وسلم بالفزع إلى الصلاة باب: جب امام موجود نہ ہو تو اکیلے شخص کا گرہن کی نماز پڑھنا، اس پر استدلال کرتے ہوئے جو نبی ﷺ کے نماز کی طرف گھبرا کر لپکنے کے حکم کے بارے میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 6375
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ قَالَ: " رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى ظَهْرِ زَمْزَمَ لِخُسُوفِ الشَّمْسِ رَكْعَتَيْنِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، انہوں نے زمزم کے قریب سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔