حدیث نمبر: 6333
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: " كَمَا تُصَلُّونَ ". إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مَوْتَ ابْنِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَصَلَاةُ الْخُسُوفِ كَانَتْ مَشْهُورَةً فِيمَا بَيْنَهُمْ فَأَشَارَ إِلَيْهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن زریع رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جیسے تم نماز پڑھتے ہو، لیکن انہوں نے آپ ﷺ کے بیٹے کی وفات کا ذکر نہیں کیا اور نمازِ خسوف ان کے ہاں مشہور تھی، اس کی طرف اشارہ کر دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6333
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»