حدیث نمبر: 6332
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ". قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ نَاسٌ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَعْمَرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ "، وَقَدْ ذَكَرَهُ جَمَاعَةٌ وَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ مَعَ إِخْبَارِهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرِيدُ بِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ⦗٤٦٢⦘ رُكُوعَيْنِ كَمَا أَثْبَتَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا تُصَلُّونَ..
حافظ ثناء اللہ

(الف) حضرت حسن، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ نبی ﷺ اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے نکلے، یہاں تک کہ مسجد پہنچ گئے۔ لوگوں نے بھی جلدی کی تو آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب گرہن ختم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم سورج یا چاند کو دیکھو کہ انہیں گرہن لگا ہوا ہے تو نماز پڑھو۔“ آپ ﷺ نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگوں نے کہا کہ ایسا آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وجہ سے ہوا ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے، انہوں نے «يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ» ”اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے، لیکن یزید بن زریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6332
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري1014»