❮
❯
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَبُو الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَنَشُ بْنُ رَبِيعَةَ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَوَى عَنْهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْهُ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. ⦗٤٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَصْحِيحِ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِي هَذِهِ الْأَعْدَادِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهَا مَرَّاتٍ مَرَّةً رُكُوعَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً ثَلَاثَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً أَرْبَعَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَأَدَّى كُلٌّ مِنْهُمْ مَا حَفِظَ وَأَنَّ الْجَمِيعَ جَائِزٌ وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزِيدُ فِي الرُّكُوعِ إِذَا لَمْ يَرَ الشَّمْسَ قَدْ تَجَلَّتْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَمَنْ بَعْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ، وَاسْتَحْسَنَهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبُ الْخِلَافِيَّاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ مِنَ التَّرْجِيحِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حنش بن معتمر ابو المعتمر کنانی، اور بعض نے انہیں حنش بن ربیعہ کہا ہے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، ان سے سماک بن حرب اور حکم بن عتیبہ نے روایت کی ہے۔ محدثین ان کی حدیث میں کلام کرتے ہیں اور یہ کوفی ہیں۔ میں نے ابن حماد کو یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے سنا۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: حنش بن معتمر قوی نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ہمارے اصحاب میں سے بعض اس طرف گئے ہیں کہ ان تعداد کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث صحیح ہیں اور نبی اکرم ﷺ نے یہ نماز کئی مرتبہ پڑھی: ایک مرتبہ ہر رکعت میں دو رکوع کیے، ایک مرتبہ ہر رکعت میں تین اور ایک مرتبہ ہر رکعت میں چار رکوع کیے، تو جس کو جو یاد تھا اس نے وہی بیان کر دیا اور یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ گویا آپ ﷺ اس وقت رکوع زیادہ کرتے جب دیکھتے کہ سورج روشن نہیں ہوا۔ یہی مذہب اسحاق بن راہویہ کا ہے اور ان کے بعد محمد بن اسحاق بن خزیمہ، ابوبکر احمد بن اسحاق بن ایوب صبغی اور ابو سلیمان خطابی کا ہے اور صاحب الخلافیات ابوبکر محمد بن ابراہیم بن منذر نے بھی اسے پسند کیا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ نے جس ترجیح کی طرف اشارہ کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6330
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عدي ابن كامل 2/438»