السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: من أجاز أن يصلي في الخسوف ركعتين في كل ركعة أربع ركوعات باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الطَّنَافِسِيُّ قَالُوا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالَ لَهُ حَنَشٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، فَقَرَأَ بِ يس وَنَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ السُّورَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ سَمِعَ اللهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ "..حنش، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس میں سورة یٰسین یا اس کی مثل قراءت کی، پھر اپنی قراءت کے مطابق رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر کھڑے ہوئے پھر سورة (یٰسین) کے اندازے کے مطابق قیام کیا اور دعا کرتے رہے اور آپ نے تکبیر کہی، پھر اپنی قراءت کے مثل لمبا رکوع کیا، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سورة کے اندازے کے مطابق قیام کیا، پھر اس قدر ہی رکوع کیا، یہاں تک کہ چار رکوع ہو گئے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور اس میں پہلی رکعت کی طرح ہی کیا، پھر بیٹھے ہوئے دعا کرتے رہے، پھر آپ ترغیب دیتے رہے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسا کیا تھا۔