حدیث نمبر: 6308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٤٥١⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ لَهَا: " أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ " ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحِجْرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ

عمرہ بنت عبد الرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی (عذابِ قبر سے متعلق پوچھنے لگی) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”کیا لوگ قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ ﷺ ایک صبح سواری پر سوار ہوئے تو سورج گرہن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ چاشت کے وقت واپس آئے۔ نبی ﷺ حجروں کے درمیان سے گزرے۔ پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور چلے گئے اور نبی ﷺ نے فرمایا جو اللہ نے چاہا۔ پھر فرمایا: ”تم عذابِ قبر سے پناہ مانگو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6308
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1002»