السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخسوف— کتاب صلوة الخسوف
باب: : كيف يصلى في الخسوف باب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاذْكُرُوا اللهَ، وَادْعُوهُ " ثُمَّ قَالَ: " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " قَالَتْ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کر دیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو سورج روشن ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو، صدقہ، اللہ کا ذکر اور دعا کیا کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امت محمد ﷺ! اللہ کی قسم! تمہارا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد ﷺ! اللہ کی قسم! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور فرمایا: ”آگاہ رہو! میں نے پہنچا دیا۔“
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔