کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: گرہن میں نماز کیسے پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 6302
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بْنُ الْحَمَامِيِّ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ إِمْلَاءً. فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللهَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، وَأُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ مِنْهَا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ " قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " بِكُفْرِهِنَّ "، قِيلَ: يَكْفُرْنَ بِاللهِ، قَالَ: " يَكْفُرْنَ ⦗٤٤٩⦘ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ، وَفِي حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ " وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ إِسْحَاقَ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّافِعِيُّ قَوْلَهُ: " أَفْظَعَ مِنْهَا "، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عطاء بن یسار، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور لمبا قیام کیا، تقریباً سورہ بقرہ کی تلاوت کے برابر۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا، لیکن پہلے قیام سے ذرا کم۔ پھر لمبا رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع سے ذرا کم۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، لیکن وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، لیکن وہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر سجدہ کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر زیادہ کیا کرو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عرض کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس جگہ کچھ پکڑ رہے تھے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ الٹے پاؤں واپس آ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جنت دکھائی گئی۔ میں نے ایک انگور کا گچھا پکڑنے کی کوشش کی، اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس کو کھاتے رہتے اور مجھے جہنم بھی دکھائی گئی۔ میں نے آج تک اتنا گھبراہٹ والا منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی ناشکری کی وجہ سے۔“ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کی ناشکری کرتی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ خاوندوں کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہیں۔ اگر آپ ان پر زمانہ بھر احسان کرتے رہو، پھر اگر آپ سے تھوڑی سی کوتاہی ہو گئی تو اسی وقت کہہ دیتی ہیں کہ میں نے آپ سے کبھی بھلائی پائی ہی نہیں۔“
(ب) شافعی رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے کہ سورج بے نور ہو گیا تو نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، لیکن انہوں نے «أَفْظَعَ مِنْهَا» ”اس سے زیادہ ہولناک“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6302
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1004»
حدیث نمبر: 6303
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسَ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ وَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ عَنْبَسَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَزَادَ..
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زندگی میں سورج گرہن ہو گیا۔ آپ ﷺ مسجد تشریف لائے اور کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں بنا لیں، تو نبی ﷺ نے لمبی قراءت کی۔ پھر تکبیر کہی، پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر کہا: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ»، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور سورج آپ ﷺ کے فارغ ہونے سے پہلے روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، جب تم اس کو دیکھو تو نماز کے لیے جلدی کیا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6303
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 997»
حدیث نمبر: 6304
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: وَكَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ مِثْلَ حَدِيثِ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کے وقت نماز پڑھائی، جیسے عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا۔ آپ ﷺ نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6304
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أبو داؤد 1171»
حدیث نمبر: 6305
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا الرَّمَادِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِهَذَا. وَزَادَ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ إِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلِ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: " أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ " ⦗٤٥٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا، وَزَادَ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ بِطُولِهِ مَعَ هَاتَيْنِ الزِّيَادَتَينِ.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں، لیکن کچھ اضافہ ہے کہ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے بھائی رضی اللہ عنہما نے سورج گرہن کے وقت دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھی، جیسے صبح کی نماز ہوتی ہے۔ فرمایا: وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے غلطی ہو گئی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6305
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 999»
حدیث نمبر: 6306
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ بِذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا فَعَلَ ذَلِكَ أَخُوكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، مَا صَلَّى إِلَّا رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: " أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: آپ کے بھائی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مدینہ میں صرف دو رکعت صبح کی نماز کی طرح پڑھائی۔ فرمایا: وہ سنت کو بھول گئے یا ان سے خطا ہوگئی۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو رکعات میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6306
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 6307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ التَّمِيمِيُّ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا، وَتَصَدَّقُوا، وَاذْكُرُوا اللهَ، وَادْعُوهُ " ثُمَّ قَالَ: " يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ إِنْ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنَ اللهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " قَالَتْ: ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: " أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ". قَالَ: وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے قیام لمبا کیا، پھر رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کر دیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا، لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، وہ پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، لیکن وہ پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو سورج روشن ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔ پھر فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھا کرو، صدقہ، اللہ کا ذکر اور دعا کیا کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امت محمد ﷺ! اللہ کی قسم! تمہارا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیور نہیں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے۔ اے امت محمد ﷺ! اللہ کی قسم! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا لیے اور فرمایا: ”آگاہ رہو! میں نے پہنچا دیا۔“
(ب) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو نبی ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6307
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1009»
حدیث نمبر: 6308
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ ⦗٤٥١⦘ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَاءَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ لَهَا: " أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَائِذًا بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ " ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًى، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْحِجْرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبد الرحمن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی (عذابِ قبر سے متعلق پوچھنے لگی) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔“ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ”کیا لوگ قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آپ ﷺ ایک صبح سواری پر سوار ہوئے تو سورج گرہن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ چاشت کے وقت واپس آئے۔ نبی ﷺ حجروں کے درمیان سے گزرے۔ پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور لوگ بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سجدہ کیا اور چلے گئے اور نبی ﷺ نے فرمایا جو اللہ نے چاہا۔ پھر فرمایا: ”تم عذابِ قبر سے پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6308
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1002»
حدیث نمبر: 6309
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَتَتْ يَهُودِيَّةٌ فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لَنُعَذَّبُ فِي قُبُورِنَا؟ فَقَالَ كَلِمَةً: " إِنِّي عَائِذٌ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ " قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي مَرْكَبٍ وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْتُ أَنَا وَنِسْوَةٌ بَيْنَ الْحِجْرِ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا حَتَّى قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، فَكَبَّرَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا، وَهُو دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، قَالَتْ فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَقَالَ: " إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ، أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ "..
حافظ ثناء اللہ
عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی اور پوچھنے لگی (اور دعا دی کہ): اللہ آپ کو عذابِ قبر سے پناہ دے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنی قبروں میں عذاب دیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے ایک بات ارشاد فرمائی: ”میں اس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ پھر ایک دن رسول اللہ ﷺ ایک قافلے میں گزرے اور سورج گرہن ہو چکا تھا۔ پھر میں اور دوسری عورتیں حجرے سے نکلیں۔ پھر آپ ﷺ قافلے سے جلدی واپس آگئے اور جائے نماز پر کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی اور لمبا قیام کیا۔ پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، جو پہلے قیام سے ذرا کم تھا۔ پھر لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے ذرا کم تھا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر لمبا سجدہ کیا۔ وہ پہلے سجدے سے کم تھا۔ پھر دوسری مرتبہ بھی ایسے ہی کیا۔ یہ آپ ﷺ کی نماز چار رکوع اور چار سجدوں پر مشتمل تھی۔ فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ ﷺ سے سنا، آپ عذابِ قبر سے پناہ مانگ رہے تھے اور فرمایا: «إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ كَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ أَوْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ» ”تم اپنی قبروں میں فتنے میں ڈالے جاؤ گے جیسے دجال کا فتنہ ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6309
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر ما قبله»
حدیث نمبر: 6310
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ وَأَحَالَ بِهِ عَلَى رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ وَصْفُ السُّجُودِ بِالطُّولِ، وَهُوَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَمَا ذَكَرْنَا.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6310
حدیث نمبر: 6311
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي سَجْدَةٍ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: مَا سَجَدْتُ سُجُودًا قَطُّ، وَلَا رَكَعْتُ رُكُوعًا قَطُّ أَطْوَلَ مِنْهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ شَيْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہو گیا تو اعلان ہوا کہ ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ“۔ آپ ﷺ نے ایک رکعت میں دو رکوع کیے۔ پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں دو رکوع کیے، پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اتنا لمبا سجدہ اور رکوع کبھی نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6311
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 6300»
حدیث نمبر: 6312
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ وَأنا أَسْمَعُ قَالَ: ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْكَعُ. فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ: لَا يَرْفَعُ. فَرَفَعَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ، ثُمَّ رَفَعَ فَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّى قِيلَ لَا يَسْجُدُ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ثُمَّ رَفَعَ، وَفَعَلَ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ ". فَهَذَا الرَّاوِي حَفِظَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو طُولَ السُّجُودِ وَلَمْ يَحْفَظْ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ حَفِظَ رَكْعَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ وَحَفِظَ طُولَ السُّجُودِ عَنْ عَائِشَةَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگ گیا، آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ ﷺ رکوع نہیں کریں گے، آپ ﷺ نے پھر اتنا لمبا رکوع کیا کہ لوگ کہنے لگے: آپ ﷺ رکوع سے سر نہیں اٹھائیں گے، جب رکوع سے سر اٹھا لیا تو کہا گیا کہ آپ ﷺ سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر جب سجدہ کیا تو اتنا لمبا کہ لوگ کہنے لگے: آپ ﷺ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور بیٹھ گئے، زیادہ دیر بیٹھے رہے، کہا گیا کہ آپ ﷺ سجدہ نہیں فرمائیں گے، پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔
عطاء بن سائب رحمہ اللہ وغیرہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے لمبے سجود کا تذکرہ کیا، لیکن ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ یاد نہیں رہا۔
ابو سلمہ رحمہ اللہ کو ایک رکعت میں دو رکوع کا ذکر یاد تھا، لیکن لمبے سجود کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6312
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابن خزيمه 1392»
حدیث نمبر: 6313
وَقَدْ رَوَاهُ مُؤَمَّلُ بُنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْكَعُ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ حَتَّى قِيلَ لَا يَرْفَعُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَيَّاشٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مَعَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ. وَقَدْ أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي مُخْتَصَرِ الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
مؤمل بن اسماعیل رحمہ اللہ، حضرت سفیان رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، حدیث میں کچھ الفاظ زائد بھی ہیں: پھر آپ ﷺ نے اپنے سر کو اٹھایا تو قیام کو لمبا کر دیا، یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپ ﷺ رکوع نہیں کریں گے، پھر آپ ﷺ نے لمبا رکوع کیا، یہاں تک کہ کہا گیا کہ آپ ﷺ اپنے سر کو رکوع سے نہیں اٹھائیں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6313
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابن خزيمه 1393»
حدیث نمبر: 6314
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ فِي صَلَاتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " إِنِّي عُرِضَتْ ⦗٤٥٣⦘ عَلَيَّ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقُرِّبَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا نِلْتُهُ، أَوْ قَالَ قَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ، شَكَّ هِشَامٌ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَهْبَةً أَنْ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُرِيكُمُوهَا، فَإِذَا انْكَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں سخت گرمی کے دن سورج گرہن ہو گیا۔ نبی ﷺ نے نماز پڑھائی تو لمبا قیام فرمایا، یہاں تک کہ لوگ گرنے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور اسے لمبا کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو زیادہ دیر کھڑے رہے۔ پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو زیادہ دیر ٹھہرے رہے۔ پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور (دوسری رکعت میں بھی) اسی طرح کیا، پس یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ آپ ﷺ نماز میں آگے اور پیچھے ہٹتے تھے۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا، تو جنت میرے قریب کی گئی، یہاں تک کہ اگر میں اس سے ایک خوشہ پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا۔“ یا فرمایا: ”میرا ہاتھ اس سے قاصر رہ گیا۔“ (راوی) ہشام کو شک ہے۔ ”اور جہنم میرے سامنے پیش کی گئی، تو میں ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا تھا کہ کہیں وہ تمہیں ڈھانپ نہ لے۔ میں نے اس میں ایک سیاہ رنگ کی حمیری عورت دیکھی، وہ ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جا رہی تھی۔ اس نے اسے باندھ رکھا تھا، نہ اسے کھلایا، نہ پلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی اور میں نے ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں گھسیٹ رہا تھا۔ اور لوگ کہا کرتے ہیں کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہی بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جو تمہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ جب انہیں گرہن لگ جائے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6314
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 904»
حدیث نمبر: 6315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ". وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الشَّافِعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ فَهُوَ مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو. فِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگ گیا تو نبی ﷺ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6315
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ تاريخ بغداد 10/119»
حدیث نمبر: 6316
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَرْمَوِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ الْفَقِيهُ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ النَّسَوِيُّ بِهَا، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثُمَّ الْخَطْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ وَبِهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: " فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ تِلْكَ الصَّلَاةَ رَكْعَتَيْنِ وَسَجْدَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ دَارَهُ، وَجَلَسَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ قَدْ أَصَابَهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا إِنْ كَانَتِ الَّتِي تَحْذَرُونَ كَانَتْ وَأَنْتُمْ عَلَى غَيْرِ غَفْلَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ كُنْتُمْ قَدْ أَصَبْتُمْ خَيْرًا أَوِ اكْتَسَبْتُمُوهُ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ میں سورج گرہن ہوا، ان کے ساتھ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے (کیے)، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پھر گئے اور اپنے گھر داخل ہوئے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بیٹھ گئے، ہم بھی ان کے پاس بیٹھ گئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج اور چاند گرہن کے وقت نماز کا حکم دیتے تھے اور ”جب تم دیکھو کہ سورج اور چاند کو گرہن نے پا لیا ہے تو تم نماز کی طرف جلدی کرو، اگر تو یہ وہ ہے جس سے تم ڈرتے رہو، یعنی قیامت، تو تم غفلت پر نہ ہو گے اور اگر یہ وہ نہیں تو پھر تم نے بھلائی کو پا لیا“ یا فرمایا: ”تم نے بھلائی کو کما لیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6316
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أحمد 1/459»
حدیث نمبر: 6317
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ: " أَنَّ حُذَيْفَةَ صَلَّى بِالْمَدَائِنِ مِثْلَ صَلَاةِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْكُسُوفِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسن عرنی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرح کسوف کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6317
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»