السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة للنساء في لبس الحرير والديباج وافتراشهما والتحلي بالذهب باب: عورتوں کے لیے ریشم اور دیباج پہننے اور انہیں بچھانے نیز سونے کے زیورات پہننے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6111
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو الْفَيَّاضِ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزِّمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَخِي جُوَيْرِيَةَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ، ⦗٣٩٠⦘ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ فَلَبِسْتَهَا لِلْوفُودِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دھاری دار ریشمی حلہ دیکھا تو نبی کریم ﷺ سے کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ خرید لیں تو وفود اور جمعہ کے دن پہن لیا کریں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔“ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا تو وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے مجھے وہ پہنایا ہے جس کے متعلق کل آپ ﷺ نے یہ باتیں ارشاد فرمائی تھیں؟“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے بھیجا تھا تاکہ بیچ دو یا اپنی عورتوں کو پہنا دو۔“