السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: الرخصة للنساء في لبس الحرير والديباج وافتراشهما والتحلي بالذهب باب: عورتوں کے لیے ریشم اور دیباج پہننے اور انہیں بچھانے نیز سونے کے زیورات پہننے کی رخصت کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، وَأَحْمَدُ بْنُ النَّصْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَا: ثنا شَيْبَانُ، ثنا جَرِيرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، ثنا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ". فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ، وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُلَّةً، فَقَالَ لَهُ: " شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ " فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ وَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنْ بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دھاری دار جبہ بازار میں بکتا دیکھا۔ وہ ایسا آدمی تھا جو بادشاہوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے چیزیں حاصل کرتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے عطارد کے پاس ایک دھاری دار جبہ دیکھا ہے۔ اگر آپ ﷺ اس کو وفود اور جمعہ کے لیے خرید لیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ریشم دنیا میں وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ اس کے بعد نبی ﷺ کے پاس دھاری دار حلے لائے گئے تو نبی ﷺ نے ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا اور دوسرا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ تیسرا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی عورتوں کے درمیان تقسیم کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ حلہ اٹھائے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے یہ میری طرف بھیج دیا حالانکہ عطارد کے حلہ کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا فرمایا تھا! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا۔ بلکہ آپ اس سے نفع حاصل کریں۔“ اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے حلے میں چلے تو نبی ﷺ نے دیکھا، سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ پہچان گئے کہ نبی ﷺ نے اچھا نہیں جانا۔ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے بھیجا ہے پھر بھی آپ ﷺ میری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ تو اپنی عورتوں کے درمیان اس کو تقسیم کر دے تاکہ وہ اس سے دوپٹہ بنا لیں۔“