السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: ما ليس له لبسه وافتراشه باب: ان چیزوں کا بیان جنہیں پہننا اور بچھانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 6067
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَهَانَا عَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يشْرَبْ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَا يَشْرَبُ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ ⦗٣٧٩⦘ بِالذَّهَبِ، وَرُكُوبِ الْمَيَاثِرِ، وَلِبَاسِ الْقِسِّيِّ، وَالْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ "..حافظ ثناء اللہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات سے روکا ہے: ہمیں ”بیمار کی تیمارداری، جنازہ پڑھنے، سلام عام کرنے، دعوت قبول کرنے، چھینک کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور سچی قسم اٹھانے کا حکم دیا ہے اور ہمیں چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا، جو دنیا میں ان برتنوں میں پیے گا وہ آخرت میں نہ پی سکے گا، اور سونے کی انگوٹھی، ریشم کی زین، قسی کا بنا ہوا کپڑا اور موٹا و باریک ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔“