حدیث نمبر: 6066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، وَالْجُرْجَانِيُّ قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ:. اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَأَتَاهُ دِهْقَانُ بِإِنَاءِ فِضَّةٍ، فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ ". قَالَ: فَأَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، مِثْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی طلب کیا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لے کر آئے تو انہوں نے پکڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ”ہمیں منع کیا ہے کہ ہم سونے اور چاندی کے برتن میں کھائیں اور پئیں اور موٹا اور باریک ریشم پہنیں اور اس پر بیٹھنے سے منع کیا ہے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے یہ دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخوف / حدیث: 6066
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5110»