السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الوضوء من الملامسة باب: عورت کو چھونے (ملامسہ) سے وضو ٹوٹنے کا بیان
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] وَاسْمُ اللَّمْسِ يَقَعُ عَلَى مَا دُونَ الْجِمَاعِ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ: " لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ، وَنَهْيُهُ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ، وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ: " وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ ". وَقَوْلُ عَائِشَةَ: قَلَّ يَوْمًا أَوْ مَا كَانَ مَنْ يوْمٍ إِلَّا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ مَا دُونَ الْوِقَاعِ. وَهَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِأَسَانِيدِهِنَّ مُخَرَّجَةٌ فِي مَوَاضِعِهِنَّ.اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ ”یا تم عورتوں کو چھو لو۔“ [سورة النساء: 43]
اور لفظ «اللَّمْسُ» (چھونا) کا اطلاق جماع کے علاوہ دیگر افعال پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو۔“
اور آپ ﷺ کی طرف سے «الْمُلَامَسَةِ» (چھو کر بیع کرنے) کی ممانعت ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض روایات میں آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: ”اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: ”شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں رسول اللہ ﷺ ہم سب کے پاس تشریف نہ لائے ہوں، پھر آپ ﷺ بوسہ لیتے اور جماع کے بغیر چھوتے تھے۔“
اور یہ تمام احادیث اپنی سندوں کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر تخریج کی گئی ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا جَدِّي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا ".سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بوسہ، چھونے کی طرح ہے، لہٰذا تم اس سے وضو کرو۔