السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: انتقاض الطهر بالإغماء باب: بے ہوشی سے طہارت (وضو) ٹوٹ جانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرِضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أصَلَّى النَّاسُ؟ ". قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ ". فَقُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ ". فَقُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ ". فَقُلْنَا: لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ، وَبَاقِي الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ ⦗١٩٨⦘ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَالْغُسْلُ بِالْإِغْمَاءِ شَيْءٌ اسْتَحَبَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْوضُوءُ يَكْفِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کیا: آپ مجھے نبی ﷺ کے مرض کی حدیث بیان نہیں کریں گی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! رسول اللہ ﷺ کا بدن مبارک بھاری ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”برتن میں میرے لیے پانی رکھو۔“ ہم نے پانی رکھ دیا تو آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر آپ ﷺ اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ ﷺ کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے ایسے ہی کیا۔ آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے برتن میں پانی رکھا۔ آپ ﷺ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگ مسجد میں (نیند کی وجہ سے) جھکے ہوئے تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
(ب) بے ہوشی میں غسل کو رسول اللہ ﷺ نے مستحب سمجھا اگرچہ وضو بھی کافی ہے۔