السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما ورد في نوم الساجد باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو كُرَيْبًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوَ مَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمُنَادِي، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ ". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِنَا وَلَمْ يتَوَضَّأْ، وَقَالَ سُفْيَانُ: قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟ قَالَ عُمَرُ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَقَرَأَ: {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: ١٠٢]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی ﷺ کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا (عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑا ہوا۔ آپ نے نماز پڑھی پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا، اس نے آپ ﷺ کو نماز کے متعلق بتایا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ”نبی ﷺ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی: ﴿إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں: یہ نبی ﷺ کا خاصہ ہے چونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ ”آپ ﷺ کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔