السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستحب للإمام من حسن الهيئة وما يعتم، وما ورد في لبس السواد باب: امام کے لیے عمدہ ہیئت اختیار کرنے، پگڑی باندھنے کے مستحب ہونے اور کالا لباس پہننے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 5981
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ وَأَبُوبَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: " شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَمَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَجُلٌ يُنَادِي فِي ظُلَّةِ النِّسَاءِ مُحْتَبٍ بِسَيْفِهِ عَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِذَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " مَا صُنِعَ بِالرَّجُلِ؟ " قُلْتُ: قُتِلَ، قَالَ: " تَبًّا لَكُمْ سَائِرَ الدَّهْرِ ".حافظ ثناء اللہ
ابوجعفر انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر حاضر ہوا جب وہ محصور تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے۔ میں مسجد کے پاس سے گزرا، اچانک ایک شخص اعلان کر رہا تھا جو عورتوں کے خیمے کے پاس تلوار سونتے کھڑا تھا اور اس پر سیاہ پگڑی تھی۔ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا؟ میں نے کہا: شہید کر دیے گئے۔ وہ فرمانے لگے: تمہارے لیے ہلاکت ہو۔