السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ما يستحب للإمام من حسن الهيئة وما يعتم، وما ورد في لبس السواد باب: امام کے لیے عمدہ ہیئت اختیار کرنے، پگڑی باندھنے کے مستحب ہونے اور کالا لباس پہننے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 5980
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِلْحَانَ بْنَ ثَوْبَانَ يَقُولُ: " كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ عَلَيْنَا بِالْكُوفَةِ سَنَةً، وَكَانَ يَخْطُبُنَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ".حافظ ثناء اللہ
ملحان بن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمار بن یسار رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہمارے پاس ایک سال رہے، وہ ہمیں ہر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے اور ان پر سیاہ رنگ کا عمامہ ہوتا تھا۔