السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من أسمع الناس تكبير الإمام باب: اس شخص کا بیان جو لوگوں کو امام کی تکبیر سنائے (مکبر کا بیان)
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: " اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ ⦗٣٣٩⦘ يُكَبِّرُ لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنْ كِدْتُمْ آنِفًا تَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ؛ يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ، وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ، إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنِ اللَّيْثِ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی تکبیر لوگوں کو سنا رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا، ہم کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ نے ہماری طرف اشارہ کیا، پھر ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”قریب ہے کہ تم فارس و روم والوں کی طرح کرو گے، وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور بادشاہ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ تم ایسا نہ کرو۔ تم اپنے اماموں کی اقتدا کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو۔“