السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الاحتباء المباح في غير وقت الصلاة باب: نماز کے وقت کے علاوہ مباح گوٹھ مار کر بیٹھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ، ⦗٣٣٤⦘ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ، قَالَ مُوسَى بْنُ حَرْمَلَةَ: وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهَا، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا أَنَّهَا: " رَأَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخْتَشِعَ "، وَقَالَ مُوسَى: الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْقُرْفُصَاءُ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ كَجُلُوسِ الْمُحْتَبِي، وَيَكُونَ احْتِبَاؤُهُ بِيَدَيْهِ وَيَضَعُهُمَا عَلَى سَاقَيْهِ كَمَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ بِذَلِكَ.عبداللہ بن حسان عنبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری دو دادیوں صفیہ اور دحیبہ، جو علیبہ کی بیٹیاں ہیں (موسیٰ بن حرملہ کہتے ہیں کہ وہ دونوں قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں رہیں اور وہ ان دونوں کے باپ کی دادی ہیں) نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ «الْقُرْفُصَاءَ» ”اکڑوں بیٹھنے“ کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو (انتہائی وقار کے ساتھ) دیکھا (اور موسیٰ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ بیٹھنے میں عاجزی اور انکساری فرما رہے تھے) تو میں ہیبت کی وجہ سے کانپ گئی۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ «الْقُرْفُصَاءُ» سے مراد یہ ہے کہ آدمی ایسے انداز میں بیٹھے جیسے گوٹھ مار کر بیٹھنے والے کی حالت ہوتی ہے، وہ اپنے ہاتھ اکٹھے کر کے اپنی پنڈلیوں پر رکھ لیتا ہے، جیسے کپڑے سے گوٹھ ماری جاتی ہے۔