السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
جماع أبواب التبكير إلى الجمعة وغير ذلك -- باب: فضل التبكير إلى الجمعة باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے اور دیگر متعلقہ امور کے ابواب کا جامع بیان -- باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے کی فضیلت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّبَرَانِيُّ بِهَا، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيَّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا وَاقْتَرَبَ، وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ قِيَامِ سَنَةٍ وَصِيَامِهَا ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعةٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، وَالْوَهْمُ فِي إِسْنَادِهِ وَمَتْنِهِ مِنْ عُثْمَانَ الشَّامِيِّ هَذَا، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ عَنِ الْأَشْعَثِ عَنْ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ " غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ " يَعْنِي غَسَّلَ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَجْعَلُونَ فِي رُءُوسِهِمْ الْخِطْمِيَّ أَوْغَيْرِهِ، فَكَانُوا أَوَّلًا يَغْسِلُونَ رُءُوسَهَمْ ثُمَّ يَغْتَسِلُونَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اعضا کو دھویا، پھر غسل کیا اور صبح سویرے جمعہ کے لیے گیا، امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خطبہ بغور سنتا رہا اور خاموش رہا تو اس کے لیے ایک قدم کے بدلے ایک سال کے قیام اور روزوں کا اجر ہے۔“
اس کی سند اور متن میں وہم اسی عثمان شامی کی طرف سے ہے، اور صحیح وہ روایت ہے جو ایک جماعت نے ابو الاشعث سے، انہوں نے اوس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان کی ہے۔
(ب) مکحول رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے «غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ» کے بارے میں فرمایا: یعنی اپنا سر اور جسم دھویا، اور سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔ اور یہی صحیح ہے؛ کیونکہ وہ اپنے سروں میں خطمی بوٹی وغیرہ لگایا کرتے تھے، تو پہلے اپنے سروں کو دھوتے تھے، پھر غسل کرتے تھے۔