السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من تكون خلفه الجمعة من أمير ومأمور وغير أمير حرا كان أو عبدا باب: امیر، مامور اور غیر امیر خواہ آزاد ہو یا غلام، کس کے پیچھے جمعہ ادا کیا جا سکتا ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ حَرْمَلَةُ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُلَيْلٍ السَّلِيحِيُّ إِلَى قُضَاعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنَ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَخَرَجَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَاسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ، فَخَطَبَ ⦗٣١٩⦘ النَّاسَ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْهِمْ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ، وَكَانَ مِنْ أَقْرإِ النَّاسِ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ رِجَالٌ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "، فَسَمِعَهَا ابْنُ أَبِي حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا وَإِنَّكَ مَا عَلِمْتُ لَكَذُوبٌ إِنَّكَ مِنْهُمْ. قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: حَمَلَ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّهُمْ يَجْمَعُونَ مَعَهُمْ وَيَقُولُونَ لَهُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ.عبد العزیز بن عبد الملک اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ محمد بن ابو حذیفہ تشریف لائے اور منبر پر بیٹھ گئے، لوگوں کو خطبہ دیا اور لوگوں پر قرآن کی سورت پڑھی؛ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن پڑھے ہوئے تھے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”لوگ قرآن پڑھیں گے، لیکن یہ ان کے حلقوں سے نیچے نہ گزرے گا اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“ ابن ابی حذیفہ نے یہ بات سنی تو فرمایا: اللہ کی قسم! اگر آپ سچے ہیں تو میں آپ کو جھوٹا تصور نہیں کرتا، بیشک آپ انہی میں سے ہیں۔