حدیث نمبر: 5856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَتَحَرَّجُ فِي الصَّلَاةِ مَعَ هَؤُلَاءِ، وَأَنْتَ مَحْصُورٌ، وَأَنْتَ الْإِمَامُ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الصَّلَاةِ مَعَهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ الصَّلَاةَ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ فَإِذَا أَحْسَنُوا فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاؤُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ " وَسَائِرُ الْآثَارِ فِي هَذَا الْمَعْنَى قَدْ مَضَتْ فِي بَابِ الْإِمَامَةِ.
حافظ ثناء اللہ

عبید اللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، جب وہ گھر میں بند تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں حرج محسوس کرتا ہوں اور آپ کا گھیرا کیا ہوا ہے، حالانکہ آپ امام ہیں، ان کے ساتھ نماز پڑھنے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نماز اچھا کام ہے جب تک لوگ کریں، جب وہ اچھائی کریں تو آپ بھی ان کے ساتھ مل کر اچھائی کریں اور جب وہ برائی کریں تو آپ ان سے بچ جائیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجمعة / حدیث: 5856
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم 5311»