السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: حجة من زعم أن الإنصات للإمام اختيار وأن الكلام فيما يعنيه أو يعني غيره والإمام يخطب مباح باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ گمان کیا کہ امام کے لیے خاموش رہنا اختیاری ہے اور امام کے خطبہ دینے کے دوران اپنے یا کسی دوسرے کے مطلب کی بات کرنا مباح ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ شَاذِلِ بْنِ عَلِيٍّ ثنا أَبُو مَرْوَانَ يَعْنِي الْعُثْمَانِيَّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ بِخَيْبَرَ لِيَقْتُلُوهُ فَقَتَلُوهُ وَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ: " أَفْلَحْتِ الْوُجُوهُ " فَقَالُوا: أَفْلَحَ وَجْهُكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " أَقَتَلْتُمُوهُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ فَدَعَا بِالسَّيْفِ الَّذِي قُتِلَ بِهِ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَلَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَجَلْ، هَذَا طَعَامُهُ فِي ذُبَابِ السَّيْفِ " وَكَانَ الرَّهْطُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عَتِيكٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ، وَأَسْوَدُ بْنُ خُزَاعِيٍّ حَلِيفٌ لَهُمْ، وَأَبُو قَتَادَةَ فِيمَا يَظُنُّ الزُّهْرِيُّ، وَلَا يَحْفَظُ الزُّهْرِيُّ الْخَامِسَ. وَهَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَهُوَ مُرْسَلٌ جَيِّدٌ، وَهَذِهِ قِصَّةٌ مَشْهُورَةٌ فِيمَا بَيْنَ أَرْبَابِ الْمَغَازِي، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَا هَذِهِ الْقِصَّةِ وَذَكَرَا مَعَ هَؤُلَاءِ مَسْعُودَ بْنَ سِنَانٍ..عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ گروہ جسے نبی ﷺ نے ابن ابی الحقیق کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ اسے قتل کر دیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا اور نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ نبی ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو فرمایا: «أَفْلَحَتِ الْوُجُوهُ» ”چہرے کامیاب ہو گئے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کو خوشخبری ہو۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے وہ تلوار منگوائی جس سے اسے قتل کیا گیا تھا، آپ ﷺ اس وقت منبر پر ہی تھے۔ آپ ﷺ نے اسے سونتا اور فرمایا: «هَذَا طَعَامُ ذُبَابِ السَّيْفِ» ”یہ تلوار کی مکھیوں کا کھانا ہے۔“ اور گروہ میں عبداللہ بن عتیک اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہما، اسود بن خزاعی رضی اللہ عنہ (ان کے حلیف تھے) اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی زہری رحمہ اللہ کے گمان کے مطابق شامل تھے، لیکن زہری رحمہ اللہ کو پانچویں کا نام یاد نہیں۔