السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الإشارة بالسكوت دون التكلم به باب: بولنے کے بجائے اشارے سے خاموش کرانے کا بیان
يُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَكَلَّمَ رَجُلٌ وَكَانَ مِنْكَ قَرِيبًا فَاغْمِزْهُ، وَإِنْ كَانَ بَعِيدًا فَأَشِرْ إِلَيْهِ ".سیدنا زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کلام کرے اور وہ تمہارے قریب ہو تو اسے ہاتھ سے دباؤ، اور اگر وہ دور ہو تو اسے اشارہ کر کے منع کرو۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنبأ جَدِّي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شَرِيكٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ أَنِ اسْكُتْ، فَسَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْدَ الثَّالِثَةِ: " وَيْحَكَ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.شریک فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہوگی؟ لوگوں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ خاموش ہو جا۔ اس نے تین مرتبہ سوال کیا اور لوگ اس کو اشارہ کر رہے تھے کہ خاموش ہو جا۔ نبی ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”افسوس! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“