السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : كيف يستحب أن تكون الخطبة باب: خطبہ کس طرح کا ہونا مستحب ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَالْفَرْوِيُّ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ وَقَدْ عَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ أَوْ مَسَّاكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ " وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ ⦗٣٠٣⦘ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " لَفْظُ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ جمعہ کے دن آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر اس کے بعد بلند آواز سے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ﷺ کا غصہ سخت اور رخسار سرخ ہو چکے تھے، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے۔ پھر فرماتے: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ اور آپ ﷺ نے اپنی درمیانی انگلی اور اس انگلی سے اشارہ کیا جو انگوٹھے کے ساتھ ملنے والی ہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”افضل بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین سیرت محمد ﷺ کی سیرت ہے اور بد ترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ جس نے مال چھوڑا وہ اس کے گھر والوں کے لیے ہے اور جس نے قرض یا نقصان چھوڑا وہ میرے ذمے ہے۔“