السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: رفع الصوت بالخطبة باب: خطبے میں آواز بلند کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ، وَيَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ "، وَيَفَرُقُ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ ⦗٢٩٣⦘ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ " ثُمَّ يَقُولُ: " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضِيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، وَكَذَا قَالَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرٍ: " كَانَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ ".سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ سخت ہو جاتا، گویا آپ ﷺ کسی لشکر سے ڈرانے والے ہیں، جو صبح یا شام کے وقت حملہ کرنے والا ہے۔ آپ ﷺ فرماتے: ”میں اور قیامت اس طرح ہیں جیسے یہ دو انگلیاں“ اور آپ ﷺ اپنی سبابہ اور وسطیٰ کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ فرماتے اور آپ ﷺ فرماتے: ”بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ و سیرت محمد ﷺ کا ہے اور بدترین کام نئے ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔“ پھر فرماتے: ”میں ہر مؤمن سے زیادہ اس کے نفس سے زیادہ قریب ہوں۔ جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا تو وہ میرے ذمہ ہے۔“ جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا۔