السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: : يحول الناس وجوههم إلى الإمام ويسمعون الذكر باب: لوگ اپنے چہرے امام کی طرف پھیر لیں اور ذکر (خطبہ) سنیں
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: " جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا " فَقَالَ رَجُلٌ: أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟ فَسَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ؟ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ، فَقَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ " وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ، إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ، فَإِنَّهَا أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتُهَا ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ، فَبَالَتْ وَثَلَطَتْ وَأَرْتَعَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، وَنِعْمَ مَالُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ ". أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدُّسْتُوَائِيِّ.عطاء، ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور ہم آپ ﷺ کے ارد گرد تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے بعد تمہارے اوپر خوف محسوس کرتا ہوں جو دنیا کی زیب و زینت تمہارے اوپر کھول دی جائے گی۔“ ایک شخص نے عرض کیا: بھلائی شر کو لائے گی؟ آپ ﷺ خاموش ہو گئے تو اس سے کہا گیا: تیری کیا حالت ہے؟ تو نبی ﷺ سے کلام کرتا ہے لیکن نبی ﷺ تجھ سے کلام نہیں کرتے، اور ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ آپ ﷺ وحی سے فراغت کے بعد پسینہ صاف کر رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سائل کدھر ہے؟“ گویا کہ آپ ﷺ اس کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بھلائی شر کو نہیں لاتی اور موسمِ بہار جو اُگاتا ہے وہ یا ہلاک کرتا ہے اور جو سرسبز چارہ کھانے والے جانور کا جب پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ سورج کی جانب منہ کر کے بیٹھ جاتا ہے، پھر پیشاب اور گوبر کرتا ہے پھر چرنا شروع کر دیتا ہے اور یہ مال سرسبز و شاداب اور میٹھا ہے۔ مسلم کا بہترین مال وہ ہے جو وہ کسی مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے، جو اس کو بغیر حق کے لیتا ہے گویا کہ وہ کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ اس پر قیامت کے دن وبال ہوگا۔“