السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: الصلاة يوم الجمعة نصف النهار وقبله وبعده حتى يخرج الإمام. باب: جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت اور اس سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھنے کا بیان یہاں تک کہ امام (خطبے کے لیے) نکل آئے
حدیث نمبر: 5684
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: " أَنَّهُمْ كَانُوا فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَإِذَا خَرَجَ وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ حَتَّى إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ وَقَامَ عُمَرُ سَكَتُوا فَلَمْ يَتَحَدَّثْ أَحَدٌ "..حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب، ثعلبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ جمعہ کے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نکلنے کے وقت نماز پڑھتے رہتے؛ جب وہ تشریف لاتے اور منبر پر بیٹھ جاتے اور مؤذن اذان کہہ دیتے تو سب بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن خاموش ہو جاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوتے تو سب خاموش ہو جاتے اور کوئی ایک بھی بات نہ کرتا۔