السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ترك إتيان الجمعة بعذر المطر أو الطين والدحض باب: بارش، کیچڑ اور پھسلن کے عذر کے سبب جمعہ کے لیے نہ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 5646
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَعَبْدِ الْحَمِيدِ صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: " خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ ذِي رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ أَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ: الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: " كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمْ هَذَا، قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَقَالَ: فِي يَوْمٍ رَزْغٍ، وَهُوَ الْوَحْلُ الشَّدِيدُ وَكَذَلِكَ الرَّدْغُ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں کیچڑ والے دن خطبہ دیا اور جب مؤذن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» تک پہنچا تو اس کو حکم دیا کہ وہ آواز دے: «الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ» ”نماز گھروں میں پڑھ لو۔“ تو لوگ ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے۔ انہوں نے فرمایا: ”گویا کہ تم نے اس کا انکار کیا ہے! یہ کام انہوں نے کیا ہے جو مجھ سے بہتر تھے یعنی نبی ﷺ نے، اور جمعہ فرض ہے۔“
(ب) مسدد کی روایت میں ہے: ”سخت کیچڑ والے دن۔“