السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ترك إتيان الجمعة بعذر المطر أو الطين والدحض باب: بارش، کیچڑ اور پھسلن کے عذر کے سبب جمعہ کے لیے نہ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 5645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: " إِذَا قُلْتَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا تَقُلْ: حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ " قَالَ: فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: " قَدْ ⦗٢٦٤⦘ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُحْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَطَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ كِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنے مؤذن کو بارش کے دن فرماتے: ”جب تو «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں“ کہے تو «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ نہ کہہ بلکہ کہہ: «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ» ”اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو“۔“ لوگوں نے اس کا انکار کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ انہوں نے فرمایا ہے جو مجھ سے بہتر تھے یعنی نبی ﷺ نے اور جمعہ فرض ہے، میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں نکالوں اور تم مٹی اور کیچڑ میں چل کر آؤ۔“