السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: ترك إتيان الجمعة لخوف أو مرض أو ما في معناهما من الأعذار باب: خوف یا بیماری یا ان جیسے دیگر اعذار کی بنا پر جمعہ کے لیے نہ آنے کا بیان
حدیث نمبر: 5643
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دُعِيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ يَسْتَجْهِزُ لِلْجُمُعَةِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ يَمُوتُ، فَأَتَاهُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ ".حافظ ثناء اللہ
اسماعیل بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے دن بلایا گیا اور وہ اس وقت عود سے جمعہ کے لیے خوشبو حاصل کر رہے تھے۔ جب سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو وہ ان کے پاس آئے اور جمعہ چھوڑ دیا۔