السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من لا تلزمه الجمعة باب: جن لوگوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 5640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْفَزَارِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فَذَكَرَهُ، ⦗٢٦٣⦘ هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي: وَلَا نُجَمِّعُ، بِالتَّشْدِيدِ وَرَفْعِ النُّونِ.حافظ ثناء اللہ
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے بعض اہل خانہ کو (دم کے ذریعے) پناہ میں دیتے تھے، وہ اپنا دایاں ہاتھ ان پر پھیرتے اور فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ أَذْهِبِ الْبَاسَ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا» ”اے اللہ! اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور کر دے، شفا عطا فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ہے، ایسی شفا جو کسی بیماری کو باقی نہ چھوڑے۔“