السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من لا تلزمه الجمعة باب: جن لوگوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: " أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُنَّ " قَالَتْ: فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِرَسُولِ رَسُولِ اللهِ، قَالَ: " تُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ؟ " قَالَتْ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجِ الْبَيْتِ، وَمَدَدْنَا أَيْدِينَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ، ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ اشْهَدْ، وَأَمَرَنَا بِالْعِيدَيْنِ أَنْ تَخْرُجَ فِيهِمَا الْحُيَّضَ وَالْعُتَّقَ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا، وَنَهَانَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ ". قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَسَأَلْتُ جَدَّتِي عَنْ قَوْلِهِ: {وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [الممتحنة: ١٢] قَالَتْ: " نَهَانَا عَنِ النِّيَاحَةِ ".عبدالرحمن بن عطیہ اپنی دادی سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ آئے تو انصار کی عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا اور ان کی طرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو وہ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور سلام کیا، ہم نے سلام کا جواب دیا۔ پھر فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہ ﷺ کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: خوش آمدید! رسول اللہ ﷺ اور ان کے قاصد کو۔ پھر فرمایا: تم بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گی، چوری اور زنا نہ کرو گی۔ ہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے اپنا ہاتھ پھیلایا گھر کے باہر سے اور ہم نے اپنے ہاتھ پھیلائے گھر کے اندر سے۔ پھر فرمایا: اے اللہ! تو گواہ ہوجا۔ اور ہمیں حکم دیا گیا کہ عیدین میں بالغ عورتیں آئیں، لیکن ہمارے اوپر جمعہ نہیں اور ہمیں جنازوں میں شمولیت سے منع کر دیا گیا۔ اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنی دادی سے پوچھا: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [سورة الممتحنة: 12] (بھلائی کے کاموں میں وہ نافرمانی نہ کریں) سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ نے ہمیں ”نوحہ کرنے“ سے منع کر دیا۔