السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجمعة— جمعہ کا بیان
باب: من أتى الجمعة من أبعد من ذلك اختيارا باب: جو اس سے بھی زیادہ دور سے اپنی مرضی سے نمازِ جمعہ کے لیے آئے
حدیث نمبر: 5601
قَالَ الْوَلِيدُ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُ: " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ أَتَى إِلَى أَهْلِهِ، وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَا أَهْلَ قَرَدَ، يَا أَهْلَ رَاكِيَّةَ، وَأَقَاصِي الْغُوطَةِ، وَأَدَانِي الثَّنِيَّةِ، الْجُمُعَةَ الْجُمُعَةَ ". ⦗٢٥١⦘ وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ مُسْنَدٍ إِلَّا أَنَّهُ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ ذَكَرْنَاهُ لِيُعْرَفَ إِسْنَادُهُ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن مہاجر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا: جو اپنے گھر واپس لوٹ آئے اس پر جمعہ واجب ہے، اور وہ اپنے خطبہ میں فرمایا کرتے تھے: اے اہل قرد! اے اہل راکیہ اور غوطہ کے گرد و نواح والو اور شنیہ کے قریب والو! جمعہ (ادا کیا کرو)، یہ بات انہوں نے دو مرتبہ فرمائی۔
یہ بات ایک مسند حدیث میں بھی مروی ہے، لیکن وہ سخت ضعیف ہے، ہم نے اسے اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ اس کی سند پہچانی جائے۔