السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
جماع أبواب الحدث -- باب: الوضوء من البول والغائط باب: حدث (بے وضو ہونے) کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: پیشاب اور پاخانے کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنا أَبُو شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي النَّجُودِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ كُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ قَدْ حَاكَ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِنْ كُنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ⦗١٨٥⦘ قَالَ: " كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ بَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ نَوْمٍ ".حافظ ثناء اللہ
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ اصحابِ رسول میں سے ہیں، میرے سینے میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ قضائے حاجت اور پیشاب کرنے سے موزوں پر مسح درست ہے یا نہیں، مجھے اس کے بارے میں خبر دیجیے؛ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہے۔ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب تم سفر میں ہو تو سوائے جنابت کے اپنے موزوں کو تین دن اور تین راتیں نہ اتارو لیکن پیشاب، قضائے حاجت اور نیند سے نہ اتارنا۔“