السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الاستبراء عن البول باب: پیشاب سے استبراء (قطرے رکنے تک صفائی کا اہتمام) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 551
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، نا فَهِدُ بْنُ حَيَّانَ الْقَيْسِيُّ، نا أَبُو يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ فَأَتَاهُ عُمَرُ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟ ". قَالَ: تَوَضَّأْ بِهِ. قَالَ: " لَمْ أُومَرْ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ كَانَتْ سُنَّةً ". لَفْظُ حَدِيثِ فَهْدِ بْنِ حَيَّانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پیشاب کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! یہ کیا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اس سے وضو کر لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں اس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا اور اگر میں ایسے کروں تو سنت بن جائے۔“