السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المقيم يصلي بالمسافرين والمقيمين باب: مقیم امام کا مسافروں اور مقیموں کو نماز پڑھانا
حدیث نمبر: 5503
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: الْمُسَافِرُ يُدْرِكُ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْقَوْمِ، يَعْنِي الْمُقِيمِينَ، أَتُجْزِيهُ الرَّكْعَتَانِ أَوْ يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ؟ قَالَ: فَضَحِكَ، وَقَالَ: " يُصَلِّي بِصَلَاتِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
ابو مجلز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مسافر لوگوں کے ساتھ دو رکعات پا لیتا ہے (یعنی حاضر لوگوں کے ساتھ) کیا اس کو دو رکعات کفایت کر جائیں گی یا وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہنس پڑے اور فرمایا: وہ ان کی طرح مکمل نماز پڑھے یعنی چار رکعات پوری کرے۔