السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر ينتهي إلى الموضع الذي يريد المقام به باب: مسافر اس جگہ پہنچ جائے جہاں وہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے
حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنِ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أُمَيَّةُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْصُرُ مِنْ مُرَّ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَقْصُرُ مِنْ عَرَفَاتٍ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: أَقْصُرُ مِنْ جُدَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنَ الطَّائِفِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِذَا أَتَيْتَ أَهْلَكَ أَوْ مَاشِيَتَكَ فَأَتِمَّ الصَّلَاةَ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: کیا میں ”مر“ نامی جگہ سے قصر کروں؟ فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: عرفات سے قصر کروں؟ فرمایا: نہیں۔ اس نے پوچھا: کیا جدہ سے قصر کروں؟ فرمایا: ہاں۔ پوچھا: طائف سے؟ فرمایا: ہاں اور فرمایا: جب تو اپنے گھر یا مویشیوں کے پاس آجائے تو پوری نماز پڑھ۔