السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: المسافر ينتهي إلى الموضع الذي يريد المقام به باب: مسافر اس جگہ پہنچ جائے جہاں وہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے
حدیث نمبر: 5494
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنبا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: " أَقْصُرُ إِلَى عَرَفَةَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ إِلَى جُدَّةَ وَعُسْفَانَ وَالطَّائِفِ، وَإِنْ قَدِمْتَ عَلَى أَهْلٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَأَتِمَّ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا عرفہ میں نماز قصر کروں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ جدہ، عسفان اور طائف میں اور جب تم اپنے گھر یا مویشیوں کے پاس پہنچ جاؤ تو نماز پوری کرو۔