حدیث نمبر: 5484
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ: ايْتِ مَجْلِسَنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَاحْفَظُوهَا عَنِّي، مَا سَافَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ، وَيَقُولُ: " يَا أَهْلَ مَكَّةَ قُومُوا فَصَلُّوا رَكْعَتَيْنِ، فَإِنَّا سَفْرٌ ". وَغَزَا الطَّائِفَ وَحُنَيْنًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَتَى الْجِعْرَانَةَ فَاعْتَمَرَ مِنْهَا، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاعْتَمَرْتُ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا ".
حافظ ثناء اللہ

علی بن زید، ابونضرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ ہماری مجلس میں آنا۔ پھر فرمایا: اس نے نبی ﷺ کی سفر کی نماز کے بارے میں سوال کیا ہے، تم بھی اسے مجھ سے یاد کر لو۔ جب بھی نبی ﷺ نے سفر کیا تو واپسی تک دو دو رکعت پڑھتے تھے اور فرماتے: ”اے اہل مکہ! کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔“ طائف و حنین میں غزوہ کیا تو دو رکعتیں پڑھیں اور جعرانہ آکر وہاں سے عمرہ کیا۔ میں نے حج و عمرہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تو وہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما بھی اپنی خلافت کی ابتدا میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھنا شروع کر دیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 5484
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم برقم 5471»